مواد پر جائیں مواد پر جائیں
مضمون 28 اکتوبر، 2026

2026 کے کرکٹ امپائر کے 8 اشارے: فیصلوں کی مکمل سمجھ

کرکٹ امپائر کے اشاروں میں سب سے اہم اشارہ آؤٹ کا ہے، کیونکہ یہ براہِ راست وکٹ اور بیٹر کے اختتام کا فیصلہ بتاتا ہے۔ اس کے بعد نو بال، وائیڈ، باؤنڈری اور ڈی آر ایس سے متعلق اشارے میچ کے اسکور، گیندوں ک...

2026 کے کرکٹ امپائر کے 8 اشارے: فیصلوں کی مکمل سمجھ

2026 کے کرکٹ امپائر کے 8 اشارے: فیصلوں کی مکمل سمجھ

کرکٹ امپائر کے اشاروں میں سب سے اہم اشارہ آؤٹ کا ہے، کیونکہ یہ براہِ راست وکٹ اور بیٹر کے اختتام کا فیصلہ بتاتا ہے۔ اس کے بعد نو بال، وائیڈ، باؤنڈری اور ڈی آر ایس سے متعلق اشارے میچ کے اسکور، گیندوں کی تعداد اور نتیجے کو بدل سکتے ہیں۔ مردوں اور خواتین کے بین الاقوامی کرکٹ، پاکستان سپر لیگ، انڈین پریمیئر لیگ اور ٹی/20 فارمیٹ میں بنیادی اشارے تقریباً یکساں رہتے ہیں۔ اس درجہ بندی میں 8 اشارے شامل ہیں، جن میں پہلے نمبر پر آؤٹ، دوسرے پر نو بال اور تیسرے پر وائیڈ ہے۔ مثال کے طور پر نو بال پر ایک اضافی رن ملتا ہے، جبکہ وائیڈ گیند اوور کی قانونی چھ گیندوں میں شمار نہیں ہوتی۔ 2026 میں میچ دیکھتے وقت پہلے امپائر کے ہاتھ، پھر اسکور بورڈ اور آخر میں ویڈیو ری پلے کو ملائیں؛ یہی سب سے قابلِ اعتماد عملی طریقہ ہے۔

Pyramid King · Free demo

پاکستانی کرکٹ گراؤنڈ میں امپائر آؤٹ کا اشارہ دیتے ہوئے، کھلاڑی اور تماشائی لمحہ بھر کو ساکت

8 اہم اشارے ایک نظر میں

یہ درجہ بندی اس بنیاد پر ہے کہ کون سا اشارہ کھیل کے نتیجے، رنز، گیندوں اور وکٹ پر سب سے زیادہ فوری اثر ڈالتا ہے۔ کرکٹ کے بنیادی قوانین کی رہنمائی پڑھنے سے نئے ناظرین کو اصطلاحات سمجھنے میں مزید مدد ملے گی۔

  1. آؤٹ: بیٹر کی وکٹ ختم ہونے کا فیصلہ واضح کرتا ہے۔
  2. نو بال: غیر قانونی گیند، ایک اضافی رن اور بعض صورتوں میں فری ہٹ کا سبب بنتی ہے۔
  3. وائیڈ: بیٹر کی قابلِ رسائی حد سے باہر گیند اور اضافی رن۔
  4. باؤنڈری: چوکا یا چھکا، جس سے گیند کے میدان سے باہر جانے کا نتیجہ بتایا جاتا ہے۔
  5. ڈیڈ بال: کھیل عارضی یا مکمل طور پر رکنے کا اعلان۔
  6. بائے: بیٹر کے بلے یا جسم سے نہ لگنے والی قانونی گیند کے رنز۔
  7. لیگ بائے: جسم سے لگنے والی گیند کے رنز، بشرطیکہ بیٹر نے شاٹ کی کوشش کی ہو۔
  8. ڈی آر ایس حوالہ: فیلڈ امپائر کا ٹی وی امپائر سے فیصلے کی جانچ کی درخواست کرنا۔

سننے کیجیے — یہی وہ حصہ ہے جو اہمیت رکھتا ہے: ٹیلی ویژن پر اشارہ چند سیکنڈ دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے قانونی اثرات اسکور کارڈ میں پورے اوور، وکٹ یا اننگز تک برقرار رہ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر 2026 کے کسی ٹی/20 میچ میں 19ویں اوور کی نو بال صرف ایک رن نہیں بڑھاتی؛ اگر اگلی گیند فری ہٹ ہو تو بیٹر کے خطرے اور بولر کے انتخاب دونوں بدل جاتے ہیں۔ اس لیے اشارہ دیکھتے وقت امپائر کے ہاتھ کی سمت، گیند کی نوعیت اور اسکور بورڈ کی تازہ تبدیلی تینوں کو ایک ساتھ جانچیں۔

سبز میدان پر امپائر کے مختلف اشارے دکھاتا ہوا تعلیمی کرکٹ گرافک

مزید تفصیلی تشریح کے لیے یہ مختصر رہنمائی ملاحظہ کریں۔

مزید جانیں

نمبر 1 آؤٹ: سب سے اہم فیصلہ

آؤٹ کا اشارہ اس وقت دیا جاتا ہے جب امپائر بیٹر کو قانون کے مطابق آؤٹ قرار دے؛ عموماً دایاں بازو اوپر اٹھا کر انگلی سیدھی کی جاتی ہے۔ یہ اشارہ کیچ، ایل بی ڈبلیو، رن آؤٹ، اسٹمپنگ، ہٹ وکٹ اور بولڈ جیسے مختلف طریقوں کے بعد نتیجہ بتاتا ہے، مگر ہر طریقے کے لیے امپائر کا مشاہدہ اور متعلقہ قانون الگ ہوتا ہے۔ میریلبون کرکٹ کلب کے قوانین میں وکٹ کے طریقوں کی الگ تعریفیں موجود ہیں، اس لیے صرف انگلی اٹھتے دیکھ کر آؤٹ کی قسم فرض کرنا درست نہیں۔

مثلاً ایل بی ڈبلیو میں گیند کا پچ پر ٹکرانا، وکٹ کی لائن، بیٹر کا جسم اور شاٹ کھیلنے کی کوشش جیسے عوامل اہم ہوتے ہیں؛ جبکہ کیچ میں گیند کا زمین سے پہلے قابو میں لیا جانا بنیادی شرط ہے۔ رن آؤٹ کے معاملے میں امپائر اکثر تھرڈ امپائر سے مدد لیتا ہے، خاص طور پر جب بیٹ کریز کے قریب ہو اور فریم بہ فریم تصویر درکار ہو۔ دلچسپ عملی نکتہ یہ ہے کہ آؤٹ کا اشارہ اسکور بورڈ پر فوراً نظر آ سکتا ہے، لیکن ریویو کا فیصلہ آنے تک حتمی نتیجہ تبدیل بھی ہو سکتا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ، آئی سی سی اور پی ایس ایل کی نشریات میں یہی فرق بار بار نمایاں ہوتا ہے۔

نمبر 2 نو بال: فری ہٹ کے لیے بہترین اشارہ

نو بال کا اشارہ عموماً امپائر ایک بازو کو افقی طور پر پھیلا کر دیتے ہیں؛ اس کا مطلب ہے کہ گیند قانونی ترسیل نہیں تھی اور بیٹنگ ٹیم کو کم از کم ایک اضافی رن ملتا ہے۔ فرنٹ فٹ نو بال میں بولر کا اگلا پاؤں مقررہ کریز سے آگے جا سکتا ہے، جبکہ بعض حالات میں کمر سے اوپر کی فل ٹاس، خطرناک باؤلنگ یا فیلڈنگ کی پابندی کی خلاف ورزی بھی وجہ بن سکتی ہے۔ ٹی/20 کرکٹ میں نو بال کے بعد فری ہٹ اکثر میچ کا رخ بدلتی ہے، مگر فری ہٹ صرف مخصوص اگلی گیند پر لاگو ہوتی ہے، ہر اضافی گیند پر نہیں۔

ڈیٹا دیکھنے کا درست طریقہ یہ ہے کہ اسکور کارڈ میں نو بال کے رنز، بیٹر کے رنز اور ایکسٹرا کو الگ الگ پڑھا جائے۔ اگر بیٹر نے نو بال پر چھکا لگایا تو کل اضافہ 7 رنز ہو سکتا ہے؛ چھ رنز بیٹر کے کھاتے میں اور ایک نو بال ایکسٹرا میں درج ہوگا۔ یہی وہ تکنیکی نکتہ ہے جو عام ناظرین اکثر چھوڑ دیتے ہیں۔ آئی سی سی کے کھیل کے ضوابط کے مطابق مخصوص مقابلے کی شرائط بھی دیکھنا ضروری ہے، کیونکہ ٹورنامنٹ کے فری ہٹ اور ریویو پروٹوکول میں معمولی فرق ہو سکتا ہے۔

نو بال اور فری ہٹ کی مکمل وضاحت

نمبر 3 وائیڈ: کم نظر آنے والا مگر قیمتی اشارہ

وائیڈ کا اشارہ دونوں بازوؤں کو کندھوں کی سطح پر پھیلا کر دیا جاتا ہے، اور اس کا مطلب ہے کہ گیند بیٹر کی معمول کی پہنچ سے باہر تھی۔ وائیڈ پر ایک اضافی رن ملتا ہے، گیند اوور کی قانونی چھ گیندوں میں شمار نہیں ہوتی، اور اگر گیند باؤنڈری تک چلی جائے تو اضافی رنز چار یا پانچ تک پہنچ سکتے ہیں، جو صورتِ حال اور گیند کے بیٹ یا فیلڈر سے لگنے پر منحصر ہے۔ اس اشارے کو نو بال سے الگ پہچاننے کا آسان طریقہ بازوؤں کی پوزیشن ہے: نو بال میں ایک بازو افقی ہوتا ہے، وائیڈ میں دونوں بازو پھیلتے ہیں۔

یہاں ایک اہم اسکورنگ edge case موجود ہے: اگر وائیڈ گیند پر بیٹر اسٹمپ ہو جائے تو عام طور پر بیٹر آؤٹ نہیں ہوتا، کیونکہ وائیڈ قانونی گیند نہیں تھی؛ تاہم رن آؤٹ یا بعض مخصوص حالات الگ قانون کے تحت آ سکتے ہیں۔ اسی طرح وائیڈ پر حاصل ہونے والا اضافی رن ٹیم کے ایکسٹرا میں جاتا ہے، بیٹر کے ذاتی رنز میں نہیں۔ پنجاب کنگز، کراچی کنگز اور لاہور قلندرز جیسے ٹی/20 مقابلوں میں آخری اوور کی دو وائیڈ گیندیں صرف 2 رنز نہیں بڑھاتیں؛ وہ بولر کو مزید قانونی گیندیں کرانے پر مجبور کرتی ہیں اور ہدف کے حساب کو بھی بدل دیتی ہیں۔

اب اشاروں کو اسکور کارڈ سے ملانے کا عملی طریقہ دیکھیے۔

مزید جانیں

باؤنڈری، ڈیڈ بال اور بائے کے اشارے کیسے پہچانیں؟

باؤنڈری کے اشارے میں دونوں بازوؤں کو سر کے اوپر لے جا کر چوکے کے لیے عموماً بازو آگے پیچھے حرکت دی جاتی ہے، جبکہ چھکے کے لیے دونوں بازو اوپر اٹھائے جاتے ہیں۔ ڈیڈ بال میں امپائر دونوں بازوؤں کو کمر کے سامنے افقی انداز میں کراس یا مخصوص حرکت سے کھیل رکنے کا اعلان کرتے ہیں؛ عین اشارہ مقابلے کی سطح اور امپائر کے طریقۂ اظہار کے مطابق کچھ مختلف دکھائی دے سکتا ہے۔ بائے میں ایک ہاتھ سر سے اوپر اٹھایا جاتا ہے، جبکہ لیگ بائے میں گھٹنے پر ہاتھ رکھ کر مخصوص اشارہ دیا جاتا ہے۔

ان چاروں فیصلوں کو صرف حرکت سے نہیں، گیند کے واقعے سے سمجھنا چاہیے۔ اگر گیند بیٹر کے بلے سے نہیں لگی اور وکٹ کیپر کے پیچھے چلی گئی تو بائے ممکن ہے؛ اگر گیند جسم سے لگی اور بیٹر نے شاٹ کی کوشش کی تو لیگ بائے بن سکتا ہے۔ لیکن اگر بیٹر نے شاٹ کھیلنے کی کوشش نہیں کی اور گیند جسم پر لگی، تو لیگ بائے کے اطلاق میں قانونی شرائط اہم ہوجاتی ہیں۔ کرکٹ قوانین کا اردو خلاصہ بنیادی اصطلاحات کے لیے مفید ہے، مگر حتمی فیصلے کے لیے میچ کی مخصوص پلیئنگ کنڈیشنز مقدم رہتی ہیں۔

“امپائر کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے، سوائے ان حالات کے جہاں ریویو نظام کے تحت اسے تبدیل کیا جائے۔” — بین الاقوامی میچ ضوابط کا خلاصہ

یہاں محتاط رہیں: باؤنڈری کا اشارہ ہمیشہ چار یا چھ رنز کا مکمل ثبوت نہیں ہوتا؛ اوور تھرو، فیلڈر کے رابطے اور ڈیڈ بال کی صورت اسکورنگ بدل سکتی ہے۔

ٹیلی ویژن امپائر ریویو اسکرین پر باؤنڈری لائن اور گیند کا فریم دیکھتے ہوئے

نمبر 4 سے 8: کم عام مگر فیصلہ کن اشارے

باقی پانچ اشارے کم دکھائی دے سکتے ہیں، لیکن ان کا اثر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی درست شناخت کے لیے امپائر کی حرکت، گیند کے مقام اور اسکورر کے اعلان کو ملا کر دیکھیں۔

  • ڈیڈ بال: گیند کھیل میں نہیں رہی؛ رن، وکٹ یا دوبارہ گیند کرانے کا فیصلہ اسی کے بعد واضح ہوتا ہے۔
  • بائے: گیند بیٹر کے بلے یا جسم سے نہ لگی، مگر رنز مکمل ہوئے۔
  • لیگ بائے: گیند جسم سے لگی اور قانون کے مطابق بیٹر نے شاٹ کھیلنے کی کوشش کی۔
  • ڈی آر ایس حوالہ: فیلڈ امپائر ہاتھوں سے مستطیل شکل بنا کر ٹی وی امپائر سے جانچ مانگتا ہے۔
  • فری ہٹ: امپائر عموماً بازو کو سر کے اوپر گھما کر بتاتا ہے کہ اگلی گیند پر بیٹر کو مخصوص تحفظ حاصل ہے۔

ڈی آر ایس میں ایک اضافی پیچیدگی ہے: فیلڈ امپائر کا ابتدائی اشارہ اور ٹی وی امپائر کا حتمی فیصلہ الگ مراحل ہیں۔ 2026 میں بین الاقوامی کرکٹ اور پی ایس ایل کی نشریات میں ہاک آئی، اسنی کو اور الٹرا ایج جیسے ٹیکنالوجی نام سنائی دے سکتے ہیں، مگر ہر مقابلے میں دستیاب نظام یکساں نہیں ہوتا۔ اگر گیند بیٹر کے پیڈ سے ٹکرائے، تو صرف آواز یا صرف گیند کا راستہ کافی نہیں؛ گیند کی پچنگ، امپیکٹ اور وکٹ ہٹ کرنے کے امکانات الگ الگ جانچے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ریویو کا نتیجہ کبھی ابتدائی انگلی اٹھنے کے برخلاف بھی آ سکتا ہے۔

8 اشاروں کی درجہ بندی کیسے کی گئی؟

اس تعلیمی درجہ بندی میں آؤٹ کو 35 فیصد، نو بال کو 20 فیصد، وائیڈ کو 15 فیصد، باؤنڈری کو 10 فیصد، ڈیڈ بال کو 7 فیصد، بائے اور لیگ بائے کو مجموعی 8 فیصد، جبکہ ڈی آر ایس اور فری ہٹ کی عملی شناخت کو 5 فیصد وزن دیا گیا ہے۔ یہ وزن کسی ایک لیگ کی سرکاری درجہ بندی نہیں، بلکہ ناظر کے لیے تعلیمی ترتیب ہے؛ مقصد یہ بتانا ہے کہ کون سا اشارہ اسکور، اوور، وکٹ اور نتیجے پر کتنا فوری اثر ڈالتا ہے۔ میریلبون کرکٹ کلب کے قانون 16، 21، 22 اور 36 سے متعلق دفعات اس تجزیے کے بنیادی قانونی ڈھانچے کی نمائندگی کرتی ہیں۔

درست فہم کے لیے تین پیمانے زیادہ اہم ہیں:

  1. فیصلے کا اثر: کیا اشارہ وکٹ، رنز یا اوور کی گنتی بدلتا ہے؟
  2. غلط فہمی کا امکان: کیا ناظر اسے دوسرے اشارے سے آسانی سے ملا سکتا ہے؟
  3. میچ میں تکرار: کیا یہ اشارہ ٹیسٹ، ایک روزہ اور ٹی/20 تینوں میں باقاعدگی سے دکھائی دیتا ہے؟

عمومی کرکٹ اسکورنگ کے مطابق وائیڈ اور نو بال معمولی نظر آنے کے باوجود محدود اوورز کے میچ میں غیر معمولی وزن رکھتے ہیں۔ 20 اوورز کی اننگز میں ایک اضافی غیر قانونی گیند بولر کے منصوبے اور آخری اوور کی دستیاب گیندوں دونوں کو متاثر کرتی ہے؛ اس لیے صرف وکٹوں کی تعداد دیکھ کر امپائرنگ کے اثر کا اندازہ لگانا نامکمل ہوگا۔

کراچی کے کرکٹ اسٹیڈیم میں اسکورر نو بال، وائیڈ اور باؤنڈری رنز الگ درج کرتے ہوئے

آپ کے لیے کون سا امپائر اشارہ سب سے اہم ہے؟

اگر آپ نئے ناظر ہیں تو پہلے آؤٹ، نو بال اور وائیڈ پہچانیں؛ اگر آپ اسکور کارڈ پڑھتے ہیں تو بائے، لیگ بائے اور ڈیڈ بال بھی شامل کریں؛ اور اگر آپ فیصلہ کن لمحات کا تجزیہ کرتے ہیں تو ڈی آر ایس اشارہ سب سے زیادہ ضروری ہے۔ ایک سادہ ترجیحی ترتیب یہ ہے: پہلے انگلی یا بازو کی حرکت دیکھیں، پھر گیند کی قانونی حیثیت معلوم کریں، اس کے بعد اسکور بورڈ پر ایکسٹرا اور گیندوں کی تعداد چیک کریں۔ یوں 2026 کے پاکستان سپر لیگ، آئی پی ایل یا آئی سی سی مقابلے میں فوری تاثر کے بجائے قابلِ جانچ نتیجہ سامنے آئے گا۔

سننے کیجیے — یہی وہ حصہ ہے جو اہمیت رکھتا ہے: ہر اشارہ الگ لغت کا لفظ نہیں، بلکہ ایک مکمل واقعے کا خلاصہ ہے۔ آؤٹ کے ساتھ آؤٹ کی قسم، نو بال کے ساتھ فری ہٹ، اور وائیڈ کے ساتھ اوور کی قانونی گیندیں ضرور دیکھیں۔ PSL خبریں پر میچ جائزے، کھلاڑیوں کے اعداد و شمار، بیٹنگ اور باؤلنگ حکمت عملی پڑھتے وقت یہی تین مرحلوں والا طریقہ آپ کو عام ناظر سے زیادہ درست تجزیہ کار بناتا ہے۔

اپنی اگلی میچ ریڈنگ کو مزید منظم بنانے کے لیے یہ رہنمائی محفوظ کرلیں۔

مزید جانیں

پی ایس ایل میچ تجزیہ اور اسکور کارڈ سمجھنے کی گائیڈ

اکثر پوچھے گئے سوالات

سوال: کرکٹ امپائر کے اشارے کیا ہوتے ہیں؟

جواب: کرکٹ امپائر کے اشارے ہاتھوں اور بازوؤں کی مخصوص حرکات ہیں جن سے رنز، وکٹ، غیر قانونی گیند یا کھیل رکنے کا فیصلہ بتایا جاتا ہے۔ آؤٹ کے لیے ایک انگلی اوپر کی جاتی ہے، وائیڈ کے لیے دونوں بازو پھیلائے جاتے ہیں، جبکہ نو بال کے لیے ایک بازو افقی کیا جاتا ہے۔ باؤنڈری، بائے، لیگ بائے، ڈیڈ بال اور ڈی آر ایس کے بھی الگ اشارے ہوتے ہیں۔

سوال: آؤٹ اور ڈی آر ایس اشارے میں کیا فرق ہے؟

جواب: آؤٹ کا اشارہ فیلڈ امپائر کا ابتدائی فیصلہ ہے، جبکہ ڈی آر ایس اشارہ اسی فیصلے کی ویڈیو جانچ کی درخواست بتاتا ہے۔ فیلڈ امپائر انگلی اٹھا سکتا ہے، مگر ریویو کے بعد ٹی وی امپائر شواہد کی بنیاد پر فیصلہ برقرار، تبدیل یا کال برقرار رکھ سکتا ہے۔ اس لیے ریویو مکمل ہونے سے پہلے اسکور بورڈ کا حتمی نتیجہ فرض نہیں کرنا چاہیے۔

سوال: نو بال اور وائیڈ میں کیا فرق ہے؟

جواب: نو بال بولر کی غیر قانونی ترسیل یا مخصوص باؤلنگ خلاف ورزی ہے، جبکہ وائیڈ ایسی گیند ہے جو بیٹر کی معمول کی پہنچ سے باہر ہو۔ دونوں میں کم از کم ایک اضافی رن ملتا ہے اور گیند قانونی اوور میں شمار نہیں ہوتی۔ نو بال کے بعد مقابلے کے ضوابط کے مطابق فری ہٹ بھی مل سکتی ہے، مگر وائیڈ کے بعد عام طور پر فری ہٹ نہیں ہوتی۔

سوال: امپائر کے اشارے صحیح طریقے سے کیسے سیکھیں؟

جواب: پہلے آؤٹ، نو بال، وائیڈ اور باؤنڈری کے اشارے یاد کریں، پھر بائے، لیگ بائے، ڈیڈ بال اور ڈی آر ایس شامل کریں۔ ہر براہِ راست میچ میں اشارے کے فوراً بعد اسکور کارڈ پر ایکسٹرا، گیندوں کی تعداد اور وکٹ کی تبدیلی دیکھیں۔ 10 سے 15 اوورز کی توجہ سے مشق کے بعد بنیادی اشارے الگ کرنا آسان ہوجاتا ہے، لیکن ایل بی ڈبلیو اور ڈی آر ایس کے لیے قانون بھی پڑھنا ضروری ہے۔

سوال: کیا امپائر کے اشارے تمام فارمیٹس میں ایک جیسے ہوتے ہیں؟

جواب: بنیادی اشارے ٹیسٹ، ایک روزہ، ٹی/20، پی ایس ایل اور آئی پی ایل میں بڑی حد تک ایک جیسے ہوتے ہیں۔ فرق زیادہ تر ریویو کی تعداد، فری ہٹ کے اطلاق، باؤنڈری قوانین اور ٹورنامنٹ کی پلیئنگ کنڈیشنز میں آتا ہے۔ اسی لیے آئی سی سی مقابلے اور مقامی لیگ کے سرکاری ضوابط کو الگ سے دیکھنا چاہیے، خاص طور پر ڈی آر ایس اور شارٹ رنز کے معاملات میں۔

سوال: وائیڈ یا نو بال کا اسکور کارڈ پر اثر کیسے پڑتا ہے؟

جواب: وائیڈ اور نو بال دونوں ایکسٹرا میں کم از کم ایک رن شامل کرتے ہیں اور قانونی گیندوں کی گنتی نہیں بڑھاتے۔ نو بال پر بیٹر کے رنز الگ درج ہوسکتے ہیں، مثلاً چھکا اور نو بال ملا کر ٹیم کو 7 رنز مل سکتے ہیں؛ وائیڈ پر اضافی دوڑ یا باؤنڈری بھی مجموعہ بڑھا سکتی ہے۔ محدود اوورز میں ایسی گیندیں اوور کی مدت، ہدف اور بولر کے آخری اوور کے منصوبے کو براہِ راست بدل دیتی ہیں۔

سوال: اگر امپائر کا اشارہ واضح نہ ہو تو کیا کرنا چاہیے؟

جواب: اشارہ غیر واضح ہو تو اسکورر کا اعلان، اسکور بورڈ، ری پلے اور میچ کی سرکاری پلیئنگ کنڈیشنز کو ایک ساتھ دیکھیں۔ نشریاتی زاویہ کبھی ہاتھ کی مکمل حرکت چھپا دیتا ہے، جبکہ ابتدائی گرافک بھی ریویو سے پہلے عارضی ہوسکتا ہے۔ فیصلہ سمجھنے کے لیے پہلے معلوم کریں کہ گیند قانونی تھی یا نہیں، پھر آؤٹ، ایکسٹرا، ڈیڈ بال یا ڈی آر ایس میں مناسب زمرہ منتخب کریں۔

حتمی نتیجہ یاد رکھنے کے لیے یہ بنیادی اصول کافی ہے: اشارہ دیکھیں، قانون ملائیں، پھر اسکور کارڈ کی تصدیق کریں۔

مزید جانیں

متعلقہ مضامین