مواد پر جائیں مواد پر جائیں
مضمون 30 اکتوبر، 2026

کرکٹ میں نو بال اور وائیڈ: ۳ اہم فرق

نو بال اور وائیڈ دونوں غیر قانونی گیندیں ہیں، مگر کرکٹ میں ان کے رنز، آؤٹ کے امکانات اور اگلی گیند کے قواعد الگ ہوتے ہیں۔ نو بال پر کم از کم ۱ اضافی رن ملتا ہے، گیند اوور کی قانونی ۶ گیندوں میں شامل ن...

کرکٹ میں نو بال اور وائیڈ: ۳ اہم فرق

کرکٹ میں نو بال اور وائیڈ: ۳ اہم فرق

نو بال اور وائیڈ دونوں غیر قانونی گیندیں ہیں، مگر کرکٹ میں ان کے رنز، آؤٹ کے امکانات اور اگلی گیند کے قواعد الگ ہوتے ہیں۔ نو بال پر کم از کم ۱ اضافی رن ملتا ہے، گیند اوور کی قانونی ۶ گیندوں میں شامل نہیں ہوتی، اور محدود اوورز کے مقابلوں میں عموماً اگلی گیند فری ہٹ بنتی ہے۔ وائیڈ پر بھی کم از کم ۱ اضافی رن ملتا ہے، گیند دوبارہ کرائی جاتی ہے، لیکن فری ہٹ نہیں ملتی۔ ایم سی سی کے قوانین اور آئی سی سی کے مقابلہ جاتی ضوابط کے مطابق نو بال پر بیٹر کو بولڈ، ایل بی ڈبلیو، کیچ یا اسٹمپ نہیں کیا جا سکتا، جبکہ وائیڈ پر رن آؤٹ اور اسٹمپ ممکن ہیں۔ پی ایس ایل، پاکستان، بھارت اور بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی میں امپائر کا فیصلہ گیند کی پوزیشن، بیٹر کے مقام اور شاٹ کے امکان پر منحصر ہوتا ہے۔ اس لیے اسکور کارڈ میں اضافی رنز کی قسم فوراً دیکھیں۔

John Hunter and the Tomb of the Scarab Queen · Free demo

پاکستانی کرکٹ میدان میں امپائر ہاتھ اٹھا کر نو بال کا اشارہ دے رہا ہے، کھلاڑی حیران کھڑے ہیں

خلاصہ کیا ہے؟

نو بال وہ غیر قانونی ڈلیوری ہے جس میں بولر کے پاؤں، گیند کی اونچائی یا ایکشن سے متعلق قانون ٹوٹے، جبکہ وائیڈ ایسی گیند ہے جو بیٹر کی معمول کی رسائی سے باہر گزرے۔ دونوں صورتوں میں ۱ اضافی رن ملتا ہے اور گیند دوبارہ کرائی جاتی ہے، مگر محدود اوورز میں صرف نو بال کے بعد فری ہٹ آتی ہے۔

اہم فرق یہ ہے کہ نو بال کا تعلق اکثر بولر کے قدم یا خطرناک اونچائی سے ہوتا ہے، جب کہ وائیڈ کا فیصلہ بیٹر کے کھڑے ہونے، حرکت اور گیند کی لائن سے کیا جاتا ہے۔ اگر گیند بیٹر کے بیٹ یا جسم کو چھو لے تو اسے وائیڈ نہیں کہا جاتا؛ پھر رنز کا اندراج نو بال، بائی یا لیگ بائی کے طور پر ہو سکتا ہے۔ ایم سی سی کے کرکٹ قوانین میں یہ بنیادی اصول واضح ہیں، جبکہ آئی سی سی اپنے ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ضوابط میں فری ہٹ کی تفصیل الگ سے طے کرتا ہے۔

سننے کیجیے — اصل اہم بات یہ ہے کہ ایک اضافی رن معمولی دکھائی دیتا ہے، لیکن ٹی ٹوئنٹی میں ۱ نو بال، فری ہٹ اور ممکنہ باؤنڈری ایک ہی لمحے میں ۵ یا اس سے زیادہ رنز کا فرق پیدا کر سکتے ہیں۔ پی ایس ایل کے اسکور کارڈز میں نو بال کو عموماً “این بی” اور وائیڈ کو “وائیڈ” اضافی رنز میں درج کیا جاتا ہے، اس لیے کرکٹ اسکور کارڈ سمجھنے کی مکمل رہنمائی سے اضافی رنز کی تفصیل دیکھنا مفید ہے۔

اس بنیادی فرق کو یاد رکھنے کا آسان طریقہ یہ ہے: نو بال زیادہ تر ڈلیوری کی قانونی خرابی ہے، وائیڈ بیٹر تک گیند کے غیر مناسب فاصلے کا مسئلہ ہے۔ تاہم ہر معاملہ صرف آنکھ کے اندازے سے نہیں طے ہوتا؛ ٹی وی امپائر، کھلاڑی کی حرکت اور مقابلے کے مخصوص ضابطے فیصلہ بدل سکتے ہیں۔

مزید قانونی مثالیں اور اسکورنگ کی باریکیاں سمجھنے کے لیے یہ مختصر رہنمائی ملاحظہ کریں۔

مزید جانیں

کھلاڑی حقیقت میں کیا دیکھتے ہیں؟

نو بال اور وائیڈ کے فرق کا تعین امپائر کے اشارے سے پہلے گیند کی سمت اور بولر کے ایکشن سے متعلق حالات کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے۔ نو بال میں فرنٹ فٹ کا کوئی حصہ پاپنگ کریز کے پیچھے نہ رہے، یا ریئر فٹ ریٹرن کریز کے باہر چلا جائے، تو امپائر نو بال دے سکتا ہے؛ فرنٹ فٹ کے معاملے میں صرف لائن چھونا بھی خلاف ورزی بن سکتا ہے۔ اسی طرح کمر سے اوپر کی خطرناک فل ٹاس، یا محدود اوورز میں بیٹر کے سر کے اوپر سے گزرنے والی باؤنسر کی مقررہ حد سے تجاوز، نو بال کا سبب بن سکتی ہے۔

وائیڈ کا فیصلہ نسبتاً زیادہ سیاقی ہوتا ہے۔ دائیں ہاتھ کے بیٹر کے لیے آف اسٹمپ سے بہت باہر جاتی گیند عموماً وائیڈ ہوگی، مگر اگر بیٹر شاٹ کھیلنے کے لیے کریز سے باہر نکل آئے تو وہی گیند وائیڈ نہ بھی ہو سکتی ہے۔ بائیں ہاتھ کے بیٹر کے لیے زاویہ بدل جاتا ہے، اور وائیڈ لائن کے نشانات بیٹر کے قدرتی مقام کے ساتھ دیکھے جاتے ہیں۔ آئی سی سی کے ٹی ٹوئنٹی ضوابط میں وائیڈ کی تشریح میدان کی لائن، بیٹر کی حرکت اور کھیلنے کے قابل فاصلے سے جڑی ہے، اس لیے ایک ہی لائن ہر بیٹر پر یکساں لاگو نہیں ہوتی۔

اسکورنگ کی سطح پر تین باتیں فوراً چیک کیجیے:

  • نو بال کی بنیادی قیمت ۱ رن ہے؛ بیٹ سے بننے والے رنز بیٹر کے کھاتے میں جا سکتے ہیں۔
  • وائیڈ کی بنیادی قیمت ۱ رن ہے؛ اضافی بائی رنز عموماً وائیڈ کے کھاتے میں شامل ہوتے ہیں۔
  • دونوں گیندیں قانونی اوور کی ۶ گیندوں میں شمار نہیں ہوتیں، اس لیے اوور ۷ یا اس سے زیادہ ڈلیوری تک جا سکتا ہے۔

یہاں ایک کم بیان کیا جانے والا نکتہ سامنے آتا ہے: اگر نو بال پر بیٹر گیند کو چوکا لگا دے تو مجموعی اسکور کم از کم ۵ رنز ہوگا، لیکن اس میں ۴ رنز بیٹر کے اور ۱ رن نو بال کا ہوگا۔ اگر گیند بیٹ سے نہ لگے اور باؤنڈری تک چلی جائے تو اسکور ۵ نو بالز کے طور پر درج ہو سکتا ہے۔ وائیڈ گیند باؤنڈری تک پہنچے تو بھی عموماً ۵ وائیڈز درج ہوتے ہیں، نہ کہ ۴ رنز اور ۱ الگ رن۔

کرکٹ اسکور بورڈ پر نو بال، وائیڈ اور باؤنڈری رنز الگ الگ دکھائے جا رہے ہیں

امپائر کے اشارے کیوں اہم ہیں؟

نو بال کے لیے فیلڈ امپائر عموماً ایک بازو کو افقی انداز میں پھیلاتا ہے، جبکہ وائیڈ کے لیے دونوں بازو کندھوں کی سطح پر پھیلائے جاتے ہیں۔ اشارہ صرف رسمی کارروائی نہیں؛ اس کے بعد اسکورر اضافی رن، ڈلیوری کی تعداد اور ممکنہ فری ہٹ درج کرتا ہے۔ اگر نو بال پر بیٹر نے رن بنائے ہوں تو امپائر کا اشارہ اسکورنگ کی مکمل ساخت طے نہیں کرتا، بلکہ گیند کے نتیجے کو بھی شامل کرنا پڑتا ہے۔

ٹی وی امپائر کا کردار فرنٹ فٹ نو بال میں خاص طور پر اہم ہے۔ جدید بین الاقوامی کرکٹ میں تیسرے امپائر متعدد کیمروں سے دیکھ سکتا ہے کہ بولر کا پاؤں کریز کے کس حصے میں تھا؛ معمولی سا اوور اسٹیپ بھی نتیجہ بدل دیتا ہے۔ تاہم ہر لیگ کا جائزہ لینے کا طریقہ ایک جیسا نہیں ہوتا، اس لیے پی ایس ایل، آئی سی سی عالمی کپ اور مقامی ٹورنامنٹ کے کھیلنے کے حالات الگ پڑھنا ضروری ہے۔ “ٹی وی امپائر کے فیصلوں کی وضاحت” میں اسی عمل کے مراحل بیان کیے گئے ہیں۔

سب سے زیادہ اثر ڈالنے والی ۳ باتیں کون سی ہیں؟

نو بال اور وائیڈ کے اثر کو سمجھنے کے لیے ۳ عناصر سب سے اہم ہیں: اضافی رنز، قانونی گیند کی گنتی، اور آؤٹ کے امکانات۔ ان تینوں میں سے کسی ایک کو نظر انداز کرنے سے اسکور، اوور کی رفتار اور میچ کی حکمت عملی غلط سمجھی جا سکتی ہے۔

۱. اضافی رنز: نو بال یا وائیڈ کا کم از کم جرمانہ ۱ رن ہے، مگر باؤنڈری، بائی، لیگ بائی یا اوور تھرو شامل ہونے پر مجموعہ بڑھ سکتا ہے۔
۲. گیند کی گنتی: دونوں غیر قانونی گیندیں قانونی اوور میں شمار نہیں ہوتیں؛ ۶ قانونی گیندیں مکمل کرنے کے لیے دوبارہ ڈلیوری ضروری ہے۔
۳. آؤٹ اور فری ہٹ: نو بال پر عام کیچ، بولڈ، ایل بی ڈبلیو اور اسٹمپ آؤٹ نہیں ہوتے، جبکہ وائیڈ پر اسٹمپ اور رن آؤٹ ممکن ہیں؛ فری ہٹ کا اصول مقابلے کے فارمیٹ پر منحصر ہے۔

ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے میں نو بال کے بعد فری ہٹ بیٹر کو جارحانہ شاٹ کا موقع دیتی ہے، مگر ٹیسٹ کرکٹ میں ہر مقابلے میں یہی انتظام لاگو نہیں ہوتا۔ یہ ایک اہم معلوماتی فرق ہے جسے بہت سے مختصر مضامین چھوڑ دیتے ہیں: “نو بال کے بعد ہمیشہ فری ہٹ” درست عمومی جملہ نہیں۔ درست بات یہ ہے کہ آئی سی سی کے محدود اوورز کے مخصوص ضوابط فری ہٹ مقرر کرتے ہیں، جبکہ ٹیسٹ کے قوانین اور مقابلہ جاتی شرائط الگ پڑھی جاتی ہیں۔

بیٹنگ ٹیم عموماً فری ہٹ پر فیلڈ کی پابندیوں اور بولر کے دباؤ کو فائدے میں بدلنے کی کوشش کرتی ہے، مگر بولنگ ٹیم کے لیے نقصان صرف ۱ رن نہیں ہوتا۔ ایک نو بال کے بعد فری ہٹ، پھر باؤنڈری اور اگلی قانونی گیند پر اسٹرائیک برقرار رہنے سے ۲ یا ۳ ڈلیوری میں ۱۰ رنز سے زیادہ کا فرق بھی بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شاہین شاہ آفریدی، جسپریت بمراہ اور دیگر تیز بولرز کے لیے فرنٹ فٹ کی درستگی ہر فارمیٹ میں فیصلہ کن رہتی ہے۔

اعداد کے اعتبار سے بولنگ تجزیے میں صرف “نو بالز: ۲” دیکھنا کافی نہیں۔ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ان نو بالز پر کتنے رنز بنے، فری ہٹ پر کیا نتیجہ آیا، اور اوور میں کتنی قانونی گیندیں ضائع ہوئیں۔ پی ایس ایل کے اسکور کارڈ میں اضافی رنز، بولر کے رنز اور ٹیم کے مجموعی رنز الگ زاویوں سے پڑھے جائیں تو اصل نقصان زیادہ واضح ہوتا ہے۔

اس فرق کو میچ کی حکمت عملی سے جوڑنے کے لیے یہ تفصیلی وسیلہ دیکھیں۔

مزید جانیں

فاسٹ بولنگ کی لائن اور لینتھ کی حکمت عملی

مشکل حالات میں کون سی غلط فہمی پیدا ہوتی ہے؟

مشکل حالات میں درست فیصلہ اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ گیند نے بیٹ کو چھوا یا نہیں، بیٹر کہاں کھڑا تھا، اور باؤنڈری تک پہنچنے سے پہلے فیلڈ میں کیا ہوا۔ اگر گیند بیٹر کے جسم سے ٹکرائے اور بیٹر نے شاٹ کھیلنے کی کوشش نہ کی ہو تو معاملہ وائیڈ کے بجائے لیگ بائی کی طرف جا سکتا ہے؛ اگر بیٹر نے جان بوجھ کر گیند کی سمت بدلی تو قوانین مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ اس لیے صرف گیند کے اسٹمپ سے باہر گزرنے کو وائیڈ سمجھنا درست نہیں۔

ایک اور اہم صورت نو بال پر کیچ ہے۔ نو بال پر بیٹر کو عام کیچ کے ذریعے آؤٹ نہیں کیا جا سکتا، لیکن اگر بیٹر نے گیند کو مارا اور پھر کیچ پکڑا گیا تو اسے آؤٹ نہیں دیا جائے گا؛ البتہ گیند کو روکنے یا فیلڈنگ کے مخصوص قانونی حالات میں رن آؤٹ کا امکان رہتا ہے۔ نو بال پر بیٹر کو اسٹمپ بھی نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اسٹمپنگ کی بنیادی شرط قانونی ڈلیوری ہے۔ وائیڈ پر صورت حال مختلف ہے: وکٹ کیپر بیٹر کے کریز سے باہر ہونے پر اسٹمپ کر سکتا ہے، اور رن آؤٹ بھی ممکن رہتا ہے۔

اوور تھرو ایک ایسا گوشہ ہے جس میں اسکورنگ اکثر غلط پڑھی جاتی ہے۔ اگر وائیڈ گیند پر بیٹرز دو رنز دوڑتے ہیں اور فیلڈنگ کی خرابی سے گیند باؤنڈری تک چلی جاتی ہے، تو مجموعہ صرف ۱ یا ۴ نہیں رہتا؛ مکمل شدہ رنز اور باؤنڈری کے اطلاق کو قانون کے مطابق شمار کیا جاتا ہے۔ اسی طرح نو بال پر بیٹر کے دوڑنے، بیٹ لگنے اور فیلڈر کے تھرو کے بعد اسکورر کو نو بال کا بنیادی رن الگ ذہن میں رکھنا ہوتا ہے۔

ان حالات کے لیے ایک عملی جانچ فہرست استعمال کیجیے:

  • کیا فرنٹ فٹ یا ریئر فٹ نے مقررہ کریز توڑی؟
  • کیا گیند بیٹر کی معمول کی پہنچ سے باہر تھی؟
  • کیا بیٹر نے شاٹ کھیلا یا گیند جسم سے لگی؟
  • کیا گیند قانونی تھی، اور کیا فری ہٹ کا ضابطہ لاگو تھا؟
  • کیا رنز دوڑ کر، بیٹ سے، بائی سے یا باؤنڈری سے بنے؟

محدود اوورز کی باؤنسر حد بھی اسی فہرست میں شامل ہونی چاہیے۔ مثال کے طور پر ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں باؤنسرز کی تعداد، اونچائی اور بیٹر کے سر کے اوپر سے گزرنے والی گیند کے بارے میں ضوابط ہوتے ہیں، مگر یہ تعداد مقابلے اور تازہ آئی سی سی شرائط کے مطابق بدل سکتی ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی تازہ کھیلنے کی شرائط دیکھے بغیر پرانے عدد کو ہر میچ پر لاگو کرنا محفوظ نہیں۔

ٹی وی امپائر فرنٹ فٹ نو بال کا جائزہ لیتا ہے، اسکرین پر کریز اور بولر کا پاؤں واضح ہے

کیا نو بال اور وائیڈ حکمت عملی کا حصہ بن سکتے ہیں؟

جان بوجھ کر وائیڈ کرانا کبھی کبھار بیٹر کو آف سائیڈ کی باؤنڈری سے دور رکھنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، مگر اس کا خطرہ ۱ اضافی رن، اضافی ڈلیوری اور وکٹ کیپر کی غلطی ہے۔ نو بال کو حکمت عملی کہنا اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ فری ہٹ محدود اوورز میں بیٹر کو فوری حملے کا موقع دیتی ہے۔ ڈیٹا میں فائدہ اسی وقت سمجھ آتا ہے جب متوقع وکٹ کا فائدہ اضافی رن اور فری ہٹ کے خطرے سے بڑا ہو۔

مثلاً آخری اوور میں ۱۲ رنز درکار ہوں اور بیٹر کا مضبوط علاقہ آف سائیڈ ہو، تو وائیڈ لائن سے باہر گیند کرانے کا منصوبہ بظاہر منطقی لگ سکتا ہے۔ لیکن اگر وائیڈ کی گیند باؤنڈری تک پہنچ جائے تو ۵ رنز، ایک اضافی ڈلیوری اور ممکنہ طور پر اسٹرائیک کی تبدیلی دفاعی منصوبہ ختم کر دیتی ہے۔ اسی لیے تجزیہ کار صرف وائیڈز کی تعداد نہیں، بلکہ وائیڈ کے بعد بننے والے مجموعی رنز، باؤنڈری فیصد اور باقی قانونی گیندیں بھی دیکھتے ہیں۔

مقابلے کے بعد بولنگ کوچ کو کم از کم یہ ۴ اعداد الگ کرنے چاہییں:

  • فرنٹ فٹ نو بالز؛
  • اونچائی یا باؤنسر سے متعلق نو بالز؛
  • بیٹر کی حرکت کے بعد وائیڈز؛
  • نو بال کے بعد فری ہٹ پر بننے والے رنز۔

یہ تقسیم ایک مخصوص معلوماتی فائدہ دیتی ہے: اگر زیادہ تر وائیڈز بیٹر کے کریز سے باہر نکلنے کے بعد ہوئیں تو مسئلہ صرف بولر کی لائن نہیں، فیلڈ سیٹ اور گیند کی رفتار بھی ہو سکتی ہے۔ اگر نو بالز مسلسل ایک ہی بولر کے پہلے اسپیل میں آئیں تو رن اپ، لینڈنگ پوائنٹ یا دباؤ کا جائزہ لینا چاہیے۔ اس طرح خام اسکور کارڈ کو قابلِ عمل بولنگ منصوبے میں بدلا جا سکتا ہے۔

فیصلہ کیا ہے؟

نو بال اور وائیڈ دونوں ٹیم کو کم از کم ۱ اضافی رن اور ایک اضافی ڈلیوری دیتے ہیں، مگر نو بال فری ہٹ، فرنٹ فٹ اور مخصوص آؤٹ پابندیوں کے باعث عموماً زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ وائیڈ کا مرکز گیند کی بیٹر سے دوری ہے، جبکہ نو بال کا مرکز ڈلیوری کی قانونی حیثیت، بولر کا قدم یا گیند کی اونچائی ہے۔

اسکور دیکھتے وقت پہلے اضافی رنز کی قسم، پھر گیند کی قانونی گنتی، اور آخر میں آؤٹ کے قانون کی جانچ کریں۔ پی ایس ایل، آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی، ون ڈے اور ٹیسٹ میں بنیادی اصول مشترک ہیں، لیکن فری ہٹ، باؤنسر حد اور جائزے کے طریقے مقابلہ جاتی شرائط سے بدل سکتے ہیں۔ سننے کیجیے — اصل اہم بات یہ ہے کہ “ایک رن” کو معمولی نہ سمجھیں؛ نو بال کے بعد فری ہٹ یا وائیڈ باؤنڈری پورے اوور کا نتیجہ بدل سکتی ہے۔

اس موضوع سے متعلق تازہ قوانین پڑھنے کے لیے کرکٹ کے بنیادی قوانین اور اسکورنگ گائیڈ دیکھیں۔ درست تجزیہ ہمیشہ امپائر کے اشارے، گیند کے نتیجے اور سرکاری اسکور کارڈ تینوں کو ملا کر کیا جاتا ہے، نہ کہ صرف ٹی وی گرافکس کی ایک سطر سے۔

مزید کرکٹ قوانین اور میچ تجزیے تک رسائی کے لیے پی ایس ایل خبریں کی تازہ کوریج دیکھیے۔

مزید جانیں

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: کرکٹ میں نو بال کیا ہوتی ہے؟

جواب: نو بال ایسی غیر قانونی ڈلیوری ہے جس میں بولر کے قدم، گیند کی اونچائی یا مخصوص ایکشن سے متعلق قانون کی خلاف ورزی ہو۔ اس پر کم از کم ۱ اضافی رن ملتا ہے اور گیند قانونی اوور کی ۶ گیندوں میں شامل نہیں ہوتی۔ محدود اوورز کے بہت سے مقابلوں میں اگلی گیند فری ہٹ بھی بنتی ہے، مگر ٹیسٹ اور دیگر فارمیٹس کی شرائط الگ دیکھی جاتی ہیں۔

سوال: کرکٹ میں وائیڈ گیند کیسے پہچانی جاتی ہے؟

جواب: وائیڈ وہ گیند ہے جو بیٹر کی معمول کی پہنچ سے باہر گزرے اور بیٹر اسے قانونی طور پر کھیلنے کی پوزیشن میں نہ ہو۔ اس پر کم از کم ۱ اضافی رن ملتا ہے اور گیند دوبارہ کرائی جاتی ہے۔ بیٹر کا کریز سے باہر نکلنا، دائیں یا بائیں ہاتھ کا ہونا، اور گیند کی لائن وائیڈ کے فیصلے کو متاثر کر سکتے ہیں۔

سوال: نو بال اور وائیڈ میں بنیادی فرق کیا ہے؟

جواب: نو بال ڈلیوری کی قانونی خرابی ہے، جبکہ وائیڈ بیٹر سے گیند کے غیر مناسب فاصلے سے متعلق فیصلہ ہے۔ نو بال کے بعد محدود اوورز میں عموماً فری ہٹ ملتی ہے، لیکن وائیڈ کے بعد فری ہٹ نہیں ملتی۔ نو بال پر عام کیچ، بولڈ، ایل بی ڈبلیو اور اسٹمپ آؤٹ نہیں ہوتے، جبکہ وائیڈ پر اسٹمپ اور رن آؤٹ ممکن رہتے ہیں۔

سوال: نو بال کے بعد فری ہٹ کب ملتی ہے؟

جواب: نو بال کے بعد فری ہٹ عموماً آئی سی سی کے ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی جیسے محدود اوورز کے مقابلوں میں ملتی ہے۔ فری ہٹ پر بیٹر کو عام طور پر بولڈ، ایل بی ڈبلیو، کیچ یا اسٹمپ نہیں کیا جا سکتا، مگر رن آؤٹ اور بعض مخصوص قانونی آؤٹ ممکن رہتے ہیں۔ ٹیسٹ کرکٹ میں یہی اصول خودکار طور پر لاگو نہیں ہوتا، اس لیے مقابلے کی شرائط دیکھیں۔

سوال: وائیڈ گیند پر بیٹر اسٹمپ آؤٹ ہو سکتا ہے؟

جواب: ہاں، وائیڈ گیند پر بیٹر اسٹمپ آؤٹ ہو سکتا ہے اگر وہ کریز سے باہر ہو اور وکٹ کیپر قانونی طور پر وکٹ گرا دے۔ وائیڈ کا ۱ اضافی رن برقرار رہتا ہے اور گیند دوبارہ کرائی جاتی ہے۔ اس کے برعکس نو بال پر عام اسٹمپنگ نہیں ہو سکتی، کیونکہ نو بال قانونی ڈلیوری نہیں ہوتی۔

سوال: نو بال پر چوکا لگے تو کتنے رنز ملتے ہیں؟

جواب: اگر بیٹر نو بال پر بیٹ سے چوکا لگائے تو مجموعی طور پر ۵ رنز ملتے ہیں، جن میں ۴ رنز بیٹر کے اور ۱ رن نو بال کا ہوتا ہے۔ اگر گیند بیٹ سے نہ لگے اور باؤنڈری تک چلی جائے تو عموماً ۵ نو بالز درج ہوتی ہیں۔ اسکور کارڈ میں اضافی رن اور بیٹر کے رنز الگ دکھائے جا سکتے ہیں، مگر ٹیم کے مجموعے میں دونوں شامل ہوتے ہیں۔

سوال: اگر امپائر کا نو بال یا وائیڈ فیصلہ غلط لگے تو کیا کیا جائے؟

جواب: کھلاڑی مقررہ طریقہ کار کے تحت امپائر سے وضاحت یا جائزے کی درخواست کر سکتے ہیں، اگر مقابلے کے ضوابط جائزہ لینے کی اجازت دیتے ہوں۔ فرنٹ فٹ نو بال کے لیے ٹی وی امپائر کیمرہ فوٹیج دیکھ سکتا ہے، جبکہ وائیڈ میں بیٹر کی حرکت اور گیند کی لائن کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ ہر لیگ، پی ایس ایل اور آئی سی سی مقابلے میں چیلنج اور جائزے کی شرائط پہلے سے مختلف ہو سکتی ہیں، اس لیے سرکاری کھیلنے کی شرائط دیکھنا ضروری ہے۔

درست قوانین اور تازہ میچ تجزیے کے لیے پی ایس ایل خبریں کے کرکٹ سیکشن سے رجوع کیجیے۔

مزید جانیں

متعلقہ مضامین